Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1204 (مشکوۃ المصابیح)
[1204] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (1329) و الترمذي (447 وقال: غریب) [و صححہ ابن خزیمۃ (1161) وابن حبان (656) والحاکم (130/1) علٰی شرط مسلم ووافقہ الذہبي۔ ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا ہُوَ بِأَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِہِ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَہُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَہُ قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: ((يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ)) قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللہِ وَقَالَ لِعُمَرَ: ((مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا)) وَقَالَ لِعُمَرَ: ((اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وروی التِّرْمِذِيّ نَحوہ
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات تشریف لائے تو دیکھا کہ ابوبکر ؓ پست آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔اور حضرت عمر ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔راوی بیان کرتے ہیں،جب وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ؓ سے فرمایا ’’میں تمہارے پاس سے گزرا اور تم آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں نے جس سے سرگوشی کی اس کو سنا دیا۔(یعنی اللہ پاک کو) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمؑ نے عمر ؓ سے فرمایا:’’میں تمہارے پاس سے گزرا تھا اور تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں سوئے لوگوں کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ابوبکر! تم اپنی آواز کچھ بلند کرو،اور عمر ؓ سے فرمایا:تم اپنی آواز کچھ پست رکھو۔‘‘ ابوداؤد،اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔اسنادہ حسن۔