Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1212 (مشکوۃ المصابیح)
[1212] رواہ مسلم (200 / 770)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَہُ فَقَالَ: ((اللہُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيہِ يَخْتَلِفُونَ اہْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَہْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ)) . رَوَاہُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے تھے:’’اے اللہ! جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانے والے حاضر و غائب کے جاننے والے،تو ہی اپنے بندوں کا ان امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں،ان اختلافی امور میں اپنی توفیق سے تو ہی میری راہنمائی فرما،بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔