Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1222 (مشکوۃ المصابیح)

[1222] رواہ البخاري (7069)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللہِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ)) يُرِيدُ أَزْوَاجَہُ ((لِكَيْ يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَة)) أخرجہ البُخَارِيّ

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے تو فرمایا:’’سبحان اللہ! آج رات کس قدر خزانے نازل کیے گئے اور کس قدر فتنے (عذاب) نازل کیے گئے،ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا؟‘‘ یعنی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ازواج مطہرات کے بارے میں فرما رہے تھے:’’تاکہ وہ نماز تہجد پڑھیں،کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں تو لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں لیکن وہ آخرت میں برہنہ ہوں گی۔‘‘ رواہ البخاری۔