Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1263 (مشکوۃ المصابیح)
[1263] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (226) و ابن ماجہ (1354) [والنسائي (125/1، 126 ح 223، 224 و 199/1 ح 405]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن غُضَيْف بن الْحَارِث قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِہِ قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِہِ قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْہَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَہَرَ بِہِ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَی ابْنُ مَاجَہْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ
غضیف بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا،مجھے بتائیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل جنابت رات کے اول حصے میں کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا: کبھی رات کے پہلے حصے میں غسل کیا اور کبھی رات کے پچھلے حصے میں،میں نے کہا: اللہ اکبر،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی،میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھا کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں؟ انہوں نے فرمایا: آپ نے کبھی رات کے اول حصے میں وتر پڑھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں،میں نے کہا: اللہ اکبر،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی،میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز تہجد میں) بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا پست آواز سے؟ انہوں نے فرمایا،کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے،میں نے کہا: اللہ اکبر،ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی۔‘‘ ابوداؤد،اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی ہے۔اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی۔