Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1293 (مشکوۃ المصابیح)
[1293] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1429) ٭ قال العیني: ’’إن فیہ انقطاعًا فإن الحسن لم یدرک عمر بن الخطاب‘‘ (شرح سنن أبي داود 5/ 343 ح 1399)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن الْحسن: أَن عمر بن الْخطاب جَمَعَ النَّاسَ عَلَی أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي بِہِمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِہِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلَّی فِي بَيْتِہِ فَكَانُوا يَقُولُونَ: أبق أبي. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو ابی ّ بن کعب ؓ کی امامت پر اکٹھا کیا،وہ انہیں بیس رات نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے،وہ صرف نصف باقی میں قنوت کرتے تھے اور جب آخری دس دن ہوتے تو وہ مسجد میں نہ آتے بلکہ گھر میں نماز تراویح پڑھتے،تو نمازی کہتے: ابی ّ ؓ بھاگ گئے۔ضعیف۔