Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1295 (مشکوۃ المصابیح)
[1295] متفق علیہ، رواہ البخاري (731) و مسلم (213/ 781)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّی فِيہَا لَيَالِيَ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَيْہِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَہُ لَيْلَةً وَظَنُّوا أَنَّہُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُہُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْہِمْ. فَقَالَ: مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّی خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِہِ. فَصَلُّوا أَيُّہَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْء فِي بَيتہ إِلَّا الصَّلَاة الْمَكْتُوبَة)
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنا لیا،اور آپ نے چند راتیں اس میں نماز پڑھی،حتیٰ کہ لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہو گئے،پھر ایک رات انہوں نے آپ کی آواز محسوس نہ کی اور انہوں نے گمان کیا کہ آپ سو چکے ہیں،کچھ لوگ کھانسنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو کچھ تم کرتے رہے میں نے اسے دیکھا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اسے تم پر فرض نہ کر دیا جائے،اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اس کا اہتمام نہ کر سکتے،لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو،کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کا گھر نماز پڑھنا افضل ہے۔‘‘ متفق علیہ۔