Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1298 (مشکوۃ المصابیح)

[1298] و إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1375) و الترمذي (806 وقال: حسن صحیح۔) و النسائي (83/3، 84 ح 1365) و ابن ماجہ (1327) [و صححہ ابن خزیمۃ (2206) و ابن حبان (919)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّہْرِ حَتَّی بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّی ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّی ذہب شطر اللَّيْل فَقلت: يارسول اللہ لَو نفلتنا قيام ہَذِہ اللَّيْلَة. قَالَ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّی مَعَ الْإِمَامِ حَتَّی ينْصَرف حسب لَہُ قيام اللَّيْلَة)) . قَالَ: فَلَمَّا كَانَت الرَّابِعَة لم يقم فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَہْلَہُ وَنِسَاءَہُ وَالنَّاسَ فَقَامَ بِنَا حَتَّی خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ. قَالَ قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السَّحُورُ. ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّةَ الشَّہْرِ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَہْ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّ التِّرْمِذِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا بَقِيَّة الشَّہْر

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روزے رکھے،آپ نے اس ماہ میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی حتیٰ کہ سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ تہائی رات بیت گئی،جب چھٹی رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح نہ پڑھائی،جب پانچویں رات ہوئی تو آپ نے ہمیں تراویح پڑھائی حتیٰ کہ نصف شب بیت گئی۔میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! کاش کہ آپ اس رات کے قیام کو بڑھا دیتے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتیٰ کہ وہ فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ جب چوتھی رات آئی تو آپ نے ہمیں نماز تراویح نہ پڑھائی حتیٰ کہ تہائی رات باقی رہ گئی۔جب تیسری رات آئی تو آپ نے اپنے اہل و عیال اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمیں نماز تراویح پڑھائی،(اور اتنا لمبا قیام فرمایا) حتیٰ کہ ہمیں اپنی سحری فوت ہو جانے کا اندیشہ ہوا (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا:’’فلاح‘‘ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سحری،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہ پڑھائی۔ابوداؤد،ترمذی،نسائی،اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا،البتہ امام ترمذی نے ’’آپ نے مہینے کے باقی ایام میں ہمیں تراویح نہیں پڑھائی‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔صحیح۔