Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1299 (مشکوۃ المصابیح)
[1299] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (739 و أعلہ) و ابن ماجہ (1389) و رزین (لم أجدہ) ٭ حجاج بن أرطاۃ ضعیف مدلس و للحدیث شواھد ضعیفۃ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَيْلَةً فَإِذَا ہُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللہُ عَلَيْكِ وَرَسُولُہُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ: إِنَّ اللہَ تَعَالَی يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَزَادَ رَزِينٌ: ((مِمَّنِ اسْتَحَقَّ النَّارَ)) وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يضعف ہَذَا الحَدِيث
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بستر پر) نہ پایا،آپ اچانک بقیع (قبرستان) تشریف لے گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تمہیں اندیشہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور وہ (اس رات) کلب قبیلے کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘ ضعیف۔ ترمذی،ابن ماجہ،اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے:’’اللہ ایسے لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے جو جہنم کے مستحق تھے۔‘‘ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا: میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ کو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا۔