Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1344 (مشکوۃ المصابیح)
[1344] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1220) والترمذي (553 وقال: حسن غریب تفرد بہ قتیبۃ) ٭ قتیبۃ ثقۃ حافظ ولا یضر تفردہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّہْرَ حَتَّی يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّی يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَہُمَا. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک (کے سفر) میں جب آپ کے کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر و عصر کو جمع کر لیتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ عصر کے لیے پڑاؤ ڈالتے۔اسی طرح مغرب میں کرتے کہ جب کوچ کرنے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا تو آپ مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ لیتے اور اگر غروب آفتاب سے پہلے کوچ کر لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کو مؤخر فرماتے حتیٰ کہ نماز عشاء کے لیے پڑاؤ ڈالتے۔پھر انہیں جمع فرما لیتے۔صحیح،رواہ ابوداؤد و الترمذی۔