Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1354 (مشکوۃ المصابیح)
[1354] متفق علیہ، رواہ البخاري (876) و مسلم (855/19) [و 855/20، الروایۃ الثانیۃ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّہُمْ أُوتُوا الْكُتَّابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاہُ من بعدہمْ ثمَّ ہَذَا يومہم الَّذِي فرض عَلَيْہِم يَعْنِي يَوْم الْجُمُعَةَ فَاخْتَلَفُوا فِيہِ فَہَدَانَا اللہُ لَہُ وَالنَّاسُ لَنَا فِيہِ تَبَعٌ الْيَہُودُ غَدًا وَالنَّصَارَی بَعْدَ غَد)) وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: ((نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بيد أَنہم)) . وَذكر نَحوہ إِلَی آخِرہ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’(ہم دنیا میں) سب سے آخر پر آئے ہیں لیکن قیامت کے روز سب سے آگے ہوں گے۔تاہم انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔پھر یہی یعنی جمعہ کا دن ان پر فرض کیا گیا تھا۔مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا،اور اللہ نے ہمیں اس کی راہنمائی فرما دی اسی لیے باقی لوگ ہم سے پیچھے ہو گئے۔یہود کل (ہفتہ کے روز) اور عیسائی اس سے اگلے روز (اتوار کے روز عبادت کرتے ہیں)۔‘‘ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے،فرمایا: (ہم دنیا میں) سب سے آخر پر ہیں لیکن روز قیامت سب سے پہلے ہوں گے۔اور سب سے پہلے ہم جنت میں جائیں گے۔‘‘ باقی روایت انہوں نے آخر تک حدیث سابق کی طرح بیان کی۔متفق علیہ۔