Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1359 (مشکوۃ المصابیح)

[1359] إسنادہ صحیح، رواہ مالک (108/1۔ 110 ح 239) و أبو داود (1046) والترمذي (491 و قال: صحیح) والنسائي (114/3، 115 ح 1431) و أحمد (486/2 ح 10308) ٭ وصححہ ابن خزیمۃ (1738) و ابن حبان (1024) و الحاکم علٰی شرط الشیخین (278/1، 279) ووافقہ الذہبي۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَی الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُہُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْہِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيہِ أُہْبِطَ وَفَيْہِ تِيبَ عَلَيْہِ وَفِيہِ مَاتَ وَفِيہِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا من دَابَّة إِلَّا وَہِي مسيخة يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وفيہَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ يُصَلِّي يسْأَل اللہ شَيْئا إِلَّا أعطَاہُ إِيَّاہَا. قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ. فَقلت: بل فِي كل جُمُعَة قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ. قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْب وَمَا حَدَّثْتُہُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَہُ: قَالَ كَعْب: ذَلِك كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ. فَقُلْتُ لَہُ ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ. فَقَالَ: بَلْ ہِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ ہِيَ. قَالَ أَبُو ہُرَيْرَة فَقلت لَہُ: فَأَخْبرنِي بہَا. فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَامٍ: ہِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((لَا يُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ يُصَلِّي وَتلك السَّاعَة لَا يُصَلِّي فِيہَا؟)) فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَہُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّی يُصَلِّيَ؟)) قَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: فَقلت: بلَی. قَالَ: فَہُوَ ذَاك. رَوَاہُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَی أَحْمد إِلَی قَوْلہ: صدق كَعْب

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں طور کی طرف گیا تو میں کعب احبار سے ملا،میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔اس نے مجھے تورات کے بارے میں بتایا اور میں نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سنائیں،میں نے اسے جو کچھ بتایا وہ وہی کچھ تھا جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تمام ایام سے بہتر دن،جمعہ کا دن ہے۔اس میں آدم ؑ کی تخلیق ہوئی،اسی روز زمین پر اتارے گئے اسی روز ان کی توبہ قبول کی گئی،اسی روز فوت ہوئے،اسی روز قیامت قائم ہو گی،جن و انس کے سوا تمام جانور جمعہ کے دن طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے چیختے رہتے ہیں،اس میں ایک گھڑی ہے کہ جب مسلمان بندہ عین اس گھڑی میں دوران نماز اللہ سے جو مانگتا ہے تو اللہ اسے وہی چیز عطا کر دیتا ہے۔‘‘ کعب نے کہا: پورے سال میں ایک دن ایسا ہوتا ہے۔میں نے کہا،نہیں بلکہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے۔کعب نے تورات پڑھی تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا۔ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں عبداللہ بن سلام ؓ سے ملا تو میں نے کعب احبار کے ساتھ اپنی مجلس کے بارے میں اور میں نے جمعہ کے متعلق جو اسے بتایا تھا اس کے متعلق انہیں بتایا،کہ کعب نے کہا: وہ پورے سال میں ایک دن ہوتا ہے۔عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا،کعب نے جھوٹ بولا،میں نے انہیں بتایا کہ کعب نے پھر تورات پڑھی تو اس نے کہا: بلکہ وہ ہر جمعہ کے روز ہوتا ہے۔پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا: کعب نے سچ کہا۔پھر عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے۔ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا،مجھے اس کے متعلق خبر دینے میں بخل نہ کریں۔عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ابوہریرہ ؓ نے فرمایا میں نے کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے۔جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے:’’کوئی مسلمان بندہ نماز میں اسے پاتا ہے۔‘‘ تو عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا:’’جو شخص کسی جگہ بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز پڑھنے تک (حکماً) نماز ہی میں ہوتا ہے۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے کہا کیوں نہیں۔انہوں نے فرمایا،بس! یہ وہی ہے۔مالک،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،اور امام احمد نے ’’کعب نے سچ کہا‘‘ تک روایت کیا ہے۔صحیح۔