Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1361 (مشکوۃ المصابیح)

[1361] ضعیف، رواہ أبو داود (1047) و النسائي (91/3، 92 ح 1375، والسنن الکبری 248/3، 249) وابن ماجہ (1636) والدارمي (369/1 ح 158) والبیھقي فی الدعوات الکبیر (لم أجدہ فی المطبوع) ٭ صححہ جماعۃ و فیہ علۃ قادحۃ، عبد الرحمٰن بن یزید ھو ابن تمیم کما حققہ البخاري و أبو داود وغیرھما وھو ضعیف جدًا و أخطأ من قال أنہ ابن جابر: الثقۃ، راجع نیل المقصود (1/ 320) و لبعضہ شاھد یأتي (1366)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيہِ قُبِضَ وَفِيہِ النَّفْخَةُ فأكثرا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيہِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَليّ)) فَقَالُوا يَا رَسُول اللہ وَكَيف تعرض صَلَاتنَا عَلَيْك وَقَدْ أَرَمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ قَالَ: ((إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْہَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير

اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک جمعہ کا دن تمہارے ایام میں سے افضل دن ہے۔اس روز آدم ؑ کی تخلیق ہوئی،اسی میں ان کی روح قبض کی گئی،پہلی بار صور پھونکا جانا دوسری بار صور پھونکا جانا ہو گا،اس روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھو،کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جاتا ہے،جبکہ آپ تو (مٹی میں) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک اللہ نے انبیا علیہم السلام کے اجساد کو زمین (یعنی مٹی) پر حرام کر دیا ہے۔ضعیف،رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی و البیھقی۔