Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1425 (مشکوۃ المصابیح)
[1425] إسنادہ صحیح، رواہ الترمذي (3035 وقال: حسن صحیح غریب۔) والنسائي (174/3 ح 1545) [وصححہ ابن حبان: 584]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لِہَؤُلَاءِ صَلَاةٌ ہِيَ أَحَبُّ إِلَيْہِمْ مِنْ آبَائِہِمْ وَأَبْنَائِہِمْ وَہِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَتَمِيلُوا عَلَيْہِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَأَمَرَہُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَہُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِہِمْ وَتَقُومَ طَائِفَةٌ أُخْرَی وَرَاءَہُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ فَتَكُونَ لَہُمْ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللہِ ﷺ رَكْعَتَانِ. رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا تو مشرکین نے کہا: نماز عصر انہیں اپنے والدین اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے،پس تم پختہ عزم کر کے ایک ہی بار ان پر حملہ کر دو،اسی اثنا میں جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں،آپ انہیں اس طرح نماز پڑھائیں گے کہ ایک جماعت ان کے پیچھے کھڑی ہو اور وہ ان کا بچاؤ کرے اور ان کے اسلحہ کا خیال رکھے،پس ان کی تو ایک رکعت ہو گی،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔صحیح،رواہ الترمذی و النسائی۔