Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1432 (مشکوۃ المصابیح)
[1432] متفق علیہ، رواہ البخاري (952) و مسلم (16، 892/17)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْہَا وَعِنْدَہَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًی تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَہُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ وَجْہِہِ فَقَالَ: دَعْہُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّہَا أَيَّامُ عِيدٍ وَفِي رِوَايَةٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِن لكل قوم عيدا وَہَذَا عيدنا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر ؓ ایام تشریق میں ان کے پاس آئے تو ان کے ہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں،اور ایک دوسری روایت میں ہے: وہ جنگ بعاث میں انصار کے کارناموں کے بارے میں گیت گا رہی تھیں،جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اوپر ایک کپڑا لپیٹ رکھا تھا،ابوبکر ؓ نے ان بچیوں کو ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا اٹھا کر فرمایا:’’ابوبکر! انہیں چھوڑ دو یہ تو ایام عید ہیں۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے:’’ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔‘‘ متفق علیہ۔