Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1439 (مشکوۃ المصابیح)
[1439] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1134) [والنسائي (179/3۔ 180 ح 1557) و صححہ الحاکم علٰی شرط مسلم (1/ 294) ووافقہ الذہبي۔ ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ وَلَہُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيہِمَا فَقَالَ: ((مَا ہَذَانِ الْيَوْمَانِ؟)) قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيہِمَا فِي الْجَاہِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللہُ بِہِمَا خَيْرًا مِنْہُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَی وَيَوْمَ الْفِطْرِ . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان (اہل مدینہ) کے دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے۔آپ نے دریافت فرمایا:’’یہ دو دن کیا ہیں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ہم دور جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ نے ان کے بدلے میں تمہیں دو بہترین دن عید الاضحی اور عید الفطر کے عطا فرما دیے ہیں۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد۔