Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1461 (مشکوۃ المصابیح)
[1461] سندہ ضعیف، رواہ أحمد (375/3 ح 15086 مختصرًا) و أبو داود (2795) و ابن ماجہ (3121 وھو حدیث حسن۔) والدارمي (75/2۔ 76 ح 1952) [و للحدیث شواھد۔ ] ٭ ابن إسحاق عنعن في ھذا اللفظ و الروایۃ الثانیۃ لأحمد (362/3) و أبي داود (2810) والترمذي (1521وقال: غریب۔) والحدیث صحیح بدون قولہ: ’’موجئین‘‘ انظر صحیح ابن خزیمۃ (2899 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ موجئين فَلَمَّا وجہہما قَالَ: ((إِنِّي وجہت وَجْہي للَّذي فطر السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلَی مِلَّةِ إِبْرَاہِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَہُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللہُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِہِ بِسْمِ اللہِ وَاللہُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِہِ وَقَالَ: ((بِسْمِ اللہِ وَاللہُ أَكْبَرُ اللہُمَّ ہَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ من أمتِي))
جابر ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الاضحی کے روز سینگوں والے چتکبرے دو خصی مینڈھے ذبح کیے،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی:’’بے شک میں نے ابراہیم جو کہ یکسو تھے کے دین پر ہوتے ہوئے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا،اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں،بے شک میری نماز،میری قربانی،میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے،اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں،اے اللہ! (یہ قربانی کا جانور) تیری عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے،اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما،اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذبح فرمایا۔احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی۔اور احمد،ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیا،اور یہ دعا پڑھی:’’اللہ کے نام سے،اور اللہ سب سے بڑا ہے،اے اللہ! یہ میری اور میری امت کے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔‘‘ ضعیف۔