Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1478 (مشکوۃ المصابیح)
[1478] سندہ ضعیف، رواہ الترمذي (1518) و أبو داود (2788) و النسائي (167/7۔ 168 ح 4229) و ابن ماجہ (3125) ٭ فیہ أبو رملۃ مجھول الحال و حدیث أبي داود (2830) یغني عنہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن مخنف بن سليم قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِعَرَفَةَ فَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: ((يَا أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّ عَلَی كُلِّ أَہْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً ہَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ ہِيَ الَّتِي تُسَمُّونَہَا الرَّجَبِيَّةَ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مامجہ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: وَالْعَتِيرَة مَنْسُوخَة
مخنف بن سلیم ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے،میں نے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’لوگو! ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی کرنا اور ایک عتیرہ واجب ہے۔کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔‘‘ ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا: یہ حدیث غریب،ضعیف الاسناد ہے۔امام ابوداؤد ؒ نے فرمایا: عتیرہ منسوخ ہو چکا ہے۔ضعیف۔