Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1479 (مشکوۃ المصابیح)
[1479] إسنادہ حسن، رواہ أبو داود (2789، 1399) و النسائي (212/7۔ 213 ح 4370) [و صححہ ابن حبان (1043) والحاکم (223/4) ووافقہ الذہبي۔ ] ٭ عیسی بن ھلال: صدوق، و ثقہ ابن حبان والحاکم وغیرھما و حدیثہ حسن۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَی عِيدًا جَعَلَہُ اللہُ لِہَذِہِ الْأُمَّةِ)) . قَالَ لَہُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَی أَفَأُضَحِّي بِہَا؟ قَالَ: ((لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللہِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے اضحی کے دن کو عید قرار دوں۔‘‘ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا،اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری،جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے،کے سوا کوئی جانور نہ پاؤں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں؟ فرمایا:’’نہیں،لیکن تم (عید کے روز) اپنے بال اور ناخن کٹاؤ،مونچھیں کتراؤ اور زیر ناف بال مونڈ لو،اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ ابوداؤد و النسائی۔