Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1493 (مشکوۃ المصابیح)

[1493] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1193) والنسائي (145/3 ح 1490 و 141/3 ح 1486) ٭ ھذا مرسل، أبو قلابۃ: لم یسمع من النعمان بن بشیر رضي اللہ عنہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ عَنْہَا حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّی حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَہُ فِي أُخْرَی: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ يَوْمًا مُسْتَعْجِلًا إِلَی الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّی حَتَّی انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَہْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِہِ وَلَكِنَّہُمَا خَلِيقَتَانِ مِنْ خَلْقِہِ يُحْدِثُ اللہُ فِي خَلْقِہِ مَا شَاءَ فَأَيُّہُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّی ينجلي أَو يحدث اللہ أمرا

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو رکعتیں پڑھتے اور (دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد) سورج گرہن کے متعلق پوچھتے حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا۔ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری نماز کی طرح ہمیں نماز پڑھائی،آپ رکوع و سجود فرماتے تھے اور نسائی کی دوسری روایت میں ہے: سورج گرہن لگ چکا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی کے ساتھ مسجد میں تشریف لائے،نماز پڑھائی حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا،پھر فرمایا:’’اہل جاہلیت کہا کرتے تھے: سورج اور چاند اہل زمین کی کسی عظیم شخصیت کی وفات پر ہی گہناتے ہیں،جبکہ سورج اور چاند کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے،بلکہ وہ تو اللہ کی مخلوق ہیں،اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے سو کرتا ہے۔ان دونوں میں سے جو بھی گہنا جائے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ (گرہن) ختم ہو جائے یا اللہ کوئی نیا معاملہ ظاہر فرما دے۔‘‘ ضعیف۔