Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1513 (مشکوۃ المصابیح)
[1513] متفق علیہ، رواہ البخاري (3206) و مسلم (899/15)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ قَالَ: ((اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَہَا وَخَيْرَ مَا فِيہَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِہِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا فِيہَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِہِ)) وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَونہ وحرج وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْہُ فَعَرَفَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ فَسَأَلَتْہُ فَقَالَ: لَعَلَّہُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: (فَلَمَّا رَأَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِہِمْ قَالُوا: ہَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) وَفِي رِوَايَةٍ: وَيَقُولُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ ((رَحْمَةً))
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،جب تیز آندھی چلتی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے:’’اے اللہ میں اس کی خیر کا اس میں جو خیر ہے اس کا اور اس کے ساتھ جو بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اس میں جو شر ہے اس کا اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کے شر کی تجھ سے پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ اور جب آسمان پر بارش کے آثار ظاہر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ تبدیل ہو جاتا،آپ کبھی گھر سے باہر آتے اور کبھی اندر جاتے،کبھی آگے آتے اور کبھی پیچھے ہٹتے،اور جب بارش ہو جاتی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوف زائل ہوتا،عائشہ ؓ نے ان کی یہ کیفیت پہچان کر آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’عائشہ! شاید کہ یہ ایسے نہ ہو جیسے قوم عاد نے کہا تھا: جب انہوں نے عذاب کو ابر کی صورت میں اپنے میدانوں کے سامنے آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: جب آپ بادل دیکھتے تو فرماتے:’’اسے رحمت بنا دے۔‘‘ متفق علیہ۔