Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1562 (مشکوۃ المصابیح)
[1562] حسن، رواہ الترمذي (2398) و ابن ماجہ (4023) والدارمي (320/2 ح 2786) [وصححہ ابن حبان: 700]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ: أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: ((الْأَنْبِيَاء ثمَّ الْمثل فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِينِہِ فَإِنْ كَانَ صلبا فِي دينہ اشْتَدَّ بَلَاؤُہُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِہِ رِقَّةٌ ہُوِّنَ عَلَيْہِ فَمَا زَالَ كَذَلِكَ حَتَّی يَمْشِيَ علی الأَرْض مَال ذَنْبٌ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح
سعد ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کن لوگوں پر سب سے زیادہ مصائب آتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’انبیا علیہم السلام پھر جو ان کے بعد افضل ہیں،پھر جو ان کے بعد افضل ہیں،آدمی کو اس کے دین کے حساب ہی سے آزمایا جاتا ہے،اگر تو وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔اور اگر وہ دین میں نرم اور کمزور ہو تو اس کی آزمائش بھی سہل ہوتی ہے،یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سطح زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس کے ذمے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔‘‘ ترمذی،ابن ماجہ،دارمی،اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔حسن۔