Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1566 (مشکوۃ المصابیح)
[1566] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (2396 وقال: حسن غریب۔) و ابن ماجہ (4031) — اضافہ از معاذ علی زئی — إسنادہ ضعیف إذا أراد اللہ بعبدہ الخیر عجل لہ العقوبۃ إسنادہ ضعیف/ ترمذی: 2396، ابن ماجہ: 4031 باب [ما جاء] فی الصبر علی البلاء سعد بن سنان صدوق لکن روایۃ یزید بن أبي حبیب عنہ منکرۃ (انظر کتاب الضعفاء للعقیلي 119/2، رواہ عن الإمام أحمد و سندہ قوي) وللحدیث شواھد ضعیفۃ عند الحاکم (349/1، 376/4۔ 377) وغیرہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاہُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہ
انس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک بڑی جزا بڑی آزمائش کے ساتھ ہے،کیونکہ اللہ عزوجل جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو وہ انہیں آزماتا ہے،جو شخص اس پر راضی ہو تو اسے رضا مندی حاصل ہو جاتی ہے،اور جو شخص ناراضی کا اظہار کرے تو وہ اس کی ناراضی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔