Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1571 (مشکوۃ المصابیح)

[1571] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (3089) ٭ أبو منظور: مجھول و عمہ: لم أعرفہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عَامر الرام قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْأَسْقَامَ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَہُ السقم ثمَّ أَعْفَاہُ اللہ مِنْہُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَی مِنْ ذُنُوبِہِ وَمَوْعِظَةً لَہُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ. وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مرض ثمَّ أعفي كَانَ كالبعير عَقَلَہُ أَہْلُہُ ثُمَّ أَرْسَلُوہُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عقلوہ وَلم يدر لم أَرْسَلُوہُ)) . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللہِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: ((قُمْ عَنَّا فلست منا)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

عامر رام ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امراض (اور ان کے ثواب) کا ذکر کیا تو فرمایا:’’جب مومن کو کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ عزوجل اسے اس سے عافیت و صحت عطا فرما دیتا ہے تو وہ (مرض) اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ اور مستقبل کے بارے میں وعظ و نصیحت بن جاتی ہے،اور جب منافق بیمار ہوتا ہے پھر اسے عافیت عطا کر دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے گھر والوں نے باندھ رکھا ہو اور پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے اسے کیوں باندھا تھا اور کیوں چھوڑا ہے۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا،اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہمارے پاس سے چلے جاؤ،تم ہم میں سے نہیں ہو۔‘‘ ضعیف۔