Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1577 (مشکوۃ المصابیح)
[1577] متفق علیہ، رواہ البخاري (5652) و مسلم (2576/54)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاس رَضِي اللہ عَنہُ: أَلا أريك امْرَأَة من أہل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلَی. قَالَ: ہَذِہِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أتكشف فَادع اللہ تَعَالَی لي. قَالَ: ((إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت اللہ تَعَالَی أَنْ يُعَافِيَكَ)) فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللہَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَہَا
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں،ابن عباس ؓ نے مجھے فرمایا:’’کیا میں تمہیں خاتون جنت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں،ضرور دکھائیں،انہوں نے فرمایا: یہ سیاہ فام خاتون،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا،اللہ کے رسول! مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میرا ستر کھل جاتا ہے۔آپ اللہ سے دعا فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تو چاہے تو صبر کر اور تیرے لیے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں صحت عطا فرمائے۔‘‘ اس خاتون نے عرض کیا،میں صبر کروں گی،پھر اس نے عرض کیا: کیونکہ میرا ستر کھل جاتا ہے،لہذا آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔متفق علیہ۔