Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1579 (مشکوۃ المصابیح)

[1579] إسنادہ حسن، رواہ أحمد (123/4 ح 17248) [وابن عساکر 121/28۔ 122] ٭ ولبعض الحدیث شواھد معنویۃ عند الحاکم (313/4) وغیرہ، و انظر المسند الجامع (346/7 بتحقیقي) والحمد للّٰہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن شَدَّاد بن أَوْس والصنابحي أَنَّہُمَا دَخَلَا عَلَی رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِہِ فَقَالَا لَہُ: كَيفَ أَصبَحت قَالَ أَصبَحت بِنِعْمَة. فَقَالَ لَہُ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَی مَا ابْتَلَيْتُہُ فَإِنَّہُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِہِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَی: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُہُ فَأَجْرُوا لَہُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَہُ وَہُوَ صَحِيح . رَوَاہُ احْمَد

شداد بن اوس ؓ اور صنا بحی ؒ سے روایت ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے اس سے کہا: تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے کہا: مجھ پر نعمت و فضل ہے،اس پر شداد ؓ نے فرمایا: گناہوں اور خطاؤں کے معاف ہو جانے پر خوش ہو جاؤ،کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی مومن بندے کو آزماتا ہوں تو وہ میرے اس آزمانے پر میری حمد اور شکر بجا لاتا ہے تو وہ اپنے اس بستر سے اس روز کی طرح گناہوں سے پاک صاف اٹھتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا،اور رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے کو روکے رکھا اور اسے آزمائش میں ڈالا،تم اسے ویسے ہی اجر عطا کر دو جس طرح تم اسے اس کے صحت مند ہونے کی صورت میں اجر دیا کرتے تھے۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ احمد۔