Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1601 (مشکوۃ المصابیح)
[1601] متفق علیہ، رواہ البخاري (6507) و مسلم (2683/14)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللہِ أَحَبَّ اللہُ لِقَاءَہُ وَمَنْ كَرِہَ لِقَاءَ اللہِ كَرِہَ اللہُ لِقَاءَہُ)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہِ: إِنَّا لَنَكْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ: ((لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللہِ وَكَرَامَتِہِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللہِ وَأَحَبَّ اللہُ لِقَاءَہُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حضر بشر بِعَذَاب اللہ وعقوبتہ فَلَيْسَ شَيْء أكرہ إِلَيْہِ مِمَّا أَمَامَہُ فَكَرِہَ لِقَاءَ اللہِ وَكَرِہَ اللہ لقاءہ))
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے تو اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔‘‘ عائشہ ؓ یا آپ کی کسی اور زوجہ مححترمہ نے فرمایا: بے شک ہم تو موت کو نا پسند کرتے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ بات نہیں ہے،بلکہ مومن کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا مندی اور اس کی عزت افزائی کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر جو اس کے آگے ہونے والا ہوتا ہے وہ اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے لہذا وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے،اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر اس کو مستقبل سے زیادہ ناگوار کوئی چیز نظر نہیں آتی تو وہ اللہ سے ملاقات کرنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔