Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1603 (مشکوۃ المصابیح)
[1603] متفق علیہ، رواہ البخاري (6512) و مسلم (950/61)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّہُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ مُرَّ عَلَيْہِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: ((مُسْتَرِيحٌ أَوْ مُسْتَرَاحٌ مِنْہُ)) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ مَا المستريح والمستراح مِنْہُ؟ فَقَالَ: ((الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاہَا إِلَی رَحْمَةِ اللہِ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يستريح مِنْہُ الْعباد والبلاد وَالشَّجر وَالدَّوَاب))
ابوقتادہ ؓ حدیث بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے اس سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بندہ مومن دنیا کی مشکلات اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت کی طرف جاتا ہے جبکہ فاجر شخص سے عبادوبلاد اور درخت و حیوانات راحت پا جاتے ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔