Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1618 (مشکوۃ المصابیح)
[1618] رواہ مسلم (918/3)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُہُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَہُ اللہُ بِہِ: (إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ) اللہُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْہَا إِلَّا أَخْلَفَ اللہُ لَہُ خَيْرًا مِنْہَا . فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلمَة قَالَت: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتِ ہَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ إِنِّي قُلْتُہَا فَأَخْلَفَ اللہُ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ. رَوَاہُ مُسلم
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو مسلمان کسی مصیبت کے آنے پر اللہ کے حکم کے مطابق یہ دعا پڑھتا ہے: بے شک ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں،اے اللہ! میری اس مصیبت پر مجھے اجر و ثواب عطا فرما اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما۔تو اللہ اسے اس سے بہتر بدل عطا فرما دیتا ہے۔‘‘ پس جب ابو سلمہ ؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا: ابو سلمہ سے بہتر کون مسلمان شخص ہو گا،یہ وہ پہلا گھرانا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی،پھر میں وہ دعا پڑھتی رہی تو اللہ نے مجھے بدلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا فرما دیے۔رواہ مسلم۔