Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1619 (مشکوۃ المصابیح)
[1619] رواہ مسلم (920/7)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی أبي سَلمَة قد شَقَّ بَصَرَہُ فَأَغْمَضَہُ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَہُ الْبَصَرُ)) فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَہْلِہِ فَقَالَ: ((لَا تَدْعُوا عَلَی أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَير فَإِن الْمَلَائِكَة يُؤمنُونَ علی ماتقولون)) ثُمَّ قَالَ: ((اللہُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِي الْمَہْدِيِّينَ وَاخْلُفْہُ فِي عَقِبِہِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَأَفْسِحْ لَہُ فِي قَبْرِہِ وَنَوِّرْ لَہُ فِيہِ)) . رَوَاہُ مُسلم
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو ان کی نظر پھٹ چکی تھی،آپ نے ان کی آنکھیں بند کیں پھر فرمایا:’’جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے چلی جاتی ہے۔‘‘ (یہ سن کر) ان کے اہل خانہ رونے لگے،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے لیے دعا خیر ہی کرو،کیونکہ تم جو کہتے ہو،فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اے اللہ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما،ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما،اس کے پیچھے باقی رہ جانے والوں میں تو اس کا خلیفہ بن جا،تمام جہانوں کے پروردگار! ہمیں اور اسے بخش دے،اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے منور فرما۔‘‘ رواہ مسلم۔