Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1637 (مشکوۃ المصابیح)
[1637] متفق علیہ، رواہ البخاري (1267) و مسلم (1306/93) ہ حدیث حباب رضي اللہ عنہ یأتي (1160)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَوَقَصَتْہُ نَاقَتُہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ ن فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((اغْسِلُوہُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوہُ فِي ثَوْبَيْہِ وَلَا تَمَسُّوہُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَہُ فَإِنَّہُ يُبْعَثُ يَوْم الْقِيَامَة ملبيا)) وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ خَبَّابٍ: قَتْلُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللہُ
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا تو اس کی اونٹنی نے اسے نیچے گرا کر اس کی گردن توڑ دی،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے انہیں (احرام کے) دو کپڑوں میں کفن دو،اور اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کے سر کو ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے روز تلبیہ پکارتا ہوا اٹھے گا۔‘‘ بخاری،مسلم۔اور ہم مصعب بن عمیر ؓ کی شہادت کے متعلق خباب ؓ سے مروی حدیث جامع المناقب کے باب میں ان شاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔متفق علیہ۔