Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1681 (مشکوۃ المصابیح)

[1681] ضعیف، رواہ الترمذي (1020) و أبو داود (3176) و ابن ماجہ (1545) [و حدیث مسلم (962) یغني عنہ۔ ] ٭ أبو الأسباط بشر بن رافع الحارثي و عبد اللہ بن سلیمان بن جنادۃ ضعیفان و سلیمان بن جنادۃ منکر الحدیث۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّی تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَہُ حَبْرٌ مِنَ الْيَہُودِ فَقَالَ لَہُ: إِنَّا ہَكَذَا نضع يَا مُحَمَّدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَقَالَ: ((خَالِفُوہُمْ)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں،جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی جنازے میں شریک ہوتے تو آپ میت کو لحد میں اتارنے تک نہیں بیٹھتے تھے،ایک یہودی عالم آپ کے پاس آیا تو اس نے آپ سے کہا،محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم)! بے شک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں۔راوی بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے،اور فرمایا:’’ان کی مخالفت کرو۔‘‘ ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ۔امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے،بشیر بن رافع راوی قوی نہیں۔ضعیف۔