Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1718 (مشکوۃ المصابیح)

[1718] صحیح، رواہ الترمذي (1055) ٭ ابن جریج مدلس و عنعن في ھذا اللفظ و لہ لون آخر عند عبد الرزاق (6535) و ابن أبي شیبۃ (343/3۔ 344 ح 11810) و لہ شاھد في تاریخ دمشق لابن عساکر (31/35) و سندہ صحیح و بہ صح الحدیث۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عبد الرَّحْمَن بن أبي بكر بالحبشي (مَوضِع قريب من مَكَّة) وَہُوَ مَوْضِعٌ فَحُمِلَ إِلَی مَكَّةَ فَدُفِنَ بِہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّہْرِ حَتَّی قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللہِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شہدتك مَا زرتك رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں۔جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ نے موضع حُبشی ٰ میں وفات پائی تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا،جب عائشہ ؓ وہاں تشریف لائیں تو وہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کی قبر پر آئیں اور یہ اشعار کہے: ہم جزیمہ کے دونوں مصاحبوں کی طرح ایک مدت تک ملے جلے رہے،حتیٰ کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے،جب ہم جدا ہوئے تو گویا میں اور مالک طویل مدت تک اکٹھا رہنے کے بعد بھی ایسے تھے جیسے ہم ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے تھے۔پھر انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں موجود ہوتی تو تمہیں جائے وفات پر ہی دفن کیا جاتا،اور اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں تمہاری زیارت کرنے نہ آتی۔صحیح،رواہ الترمذی۔