Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1741 (مشکوۃ المصابیح)

[1741] متفق علیہ، رواہ البخاري (1289) و مسلم (932/27)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَہَا أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْہِ تَقُولُ: يَغْفِرُ اللہُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّہُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّہُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی يَہُودِيَّةٍ يُبْكَی عَلَيْہَا فَقَالَ: ((إِنَّہُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْہَا وَإِنَّہَا لتعذب فِي قبرہا))

عمرہ بنت عبدالرحمٰن ؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا،میں نے عائشہ ؓ سے سنا،اور انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میت کو،اس کے قبیلے کے اس پر رونے کی وجہ سے،عذاب دیا جاتا ہے،انہوں نے فرمایا: اللہ! ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے،انہوں نے جھوٹ نہیں بولا،بلکہ وہ بھول گئے یا غلطی کر گئے،بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بے شک یہ تو اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے اپنی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔