Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1742 (مشکوۃ المصابیح)

[1742] متفق علیہ، رواہ البخاري (1286۔ 1288) و مسلم (927/23۔ 929)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ فَجِئْنَا لِنَشْہَدَہَا وَحَضَرَہَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَہُمَا فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بن عمر لعَمْرو بْنِ عُثْمَانَ وَہُوَ مُوَاجِہُہُ: أَلَا تَنْہَی عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَہْلِہِ عَلَيْہِ)) . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ. ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّی إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا ہُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ فَقَالَ: اذْہَبْ فَانْظُرْ مَنْ ہَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا ہُوَ صُہَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: ادْعُہُ فَرَجَعْتُ إِلَی صُہَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُہَيْبٌ يبكي يَقُول: وَا أَخَاہُ واصاحباہ. فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُہَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَہْلِہِ عَلَيْہِ؟)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِك لعَائِشَة فَقَالَت: يَرْحَمُ اللہُ عُمَرَ لَا وَاللہِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَن الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَہْلِہِ عَلَيْہِ وَلَكِنْ: إِنَّ اللہَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَہْلِہِ عَلَيْہِ. وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وزر أُخْرَی) قَالَ ابْن عَبَّاس عِنْد ذَلِك: وَاللہ أضح وأبكي. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَمَا قَالَ ابْنُ عمر شَيْئا

عبداللہ بن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں،عثمان بن عفان ؓ کی بیٹی مکہ میں وفات پا گئیں تو ہم اس کے جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آئے جبکہ ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ بھی تشریف لائے تھے،میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا،عبداللہ بن عمر ؓ نے عمرو بن عثمان سے فرمایا: جبکہ وہ اس کے مقابل تھے،کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میت کو،اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے،عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا: عمر ؓ اس کا بعض حصہ بیان کیا کرتے تھے،پھر انہوں (ابن عباس ؓ) نے حدیث بیان کی تو فرمایا: میں عمر ؓ کے ساتھ مکہ سے واپس آیا،حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے قریب پہنچے تو انہوں نے کیکر کے سائے تلے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا: جاؤ دیکھو کہ یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب ؓ تھے،چنانچہ میں نے ان کو بتایا،تو انہوں نے فرمایا: اس (صہیب ؓ) کو بلاؤ،میں صہیب ؓ کے پاس گیا تو میں نے کہا: یہاں سے کوچ کرو اور امیرالمؤمنین کے پاس چلو،پھر جب عمر ؓ کو زخمی کر دیا گیا،تو صہیب ؓ روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے! آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے! تو عمر ؓ نے فرمایا: صہیب! کیا تم مجھ پر روتے ہو؟ جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا: جب عمر ؓ فوت ہوئے تو میں نے عائشہ ؓ سے یہ ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ عمر ؓ پر رحم فرمائے،نہیں،اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان نہیں کی کہ ’’میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ بلکہ ’’اللہ کافر شخص پر ‘ اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب بڑھا دیتا ہے۔‘‘ اور عائشہ ؓ نے فرمایا: تمہیں قرآن کافی ہونا چاہیے:’’کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔‘‘ اس پر ابن عباس ؓ نے فرمایا: اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔ابن ابی ملیکہ نے فرمایا: ابن عمر ؓ نے کوئی بات نہ کی۔متفق علیہ۔