Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1748 (مشکوۃ المصابیح)
[1748] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (335/1 ح 3103، 237۔ 238 ح 2127) ٭ فیہ علي بن زید بن جدعان ضعیف۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَبَكَتِ النِّسَاء فَجعل عُمَرُ يَضْرِبُہُنَّ بِسَوْطِہِ فَأَخَّرَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِيَدِہِ وَقَالَ: ((مہلا يَا عمر)) ثُمَّ قَالَ: ((إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ مَہْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ)) . رَوَاہُ أَحْمد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی زینب ؓ وفات پا گئیں تو خواتین رونے لگیں،تو عمر ؓ کوڑے کے ساتھ انہیں مارنے لگے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ساتھ انہیں پیچھے کر دیا اور فرمایا:’’عمر! کچھ مہلت دو۔‘‘ پھر فرمایا:’’(خواتین کی جماعت) شیطانی آواز سے بچو۔‘‘ پھر فرمایا:’’جہاں تک آنکھ (کے اشکبار ہونے) اور دل (کے غمگین ہونے) کا تعلق ہے تو وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور رحمت ہے،اور جو ہاتھ اور زبان سے کوئی حرکت ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘ ضعیف۔