Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1749 (مشکوۃ المصابیح)

[1749] إسنادہ ضعیف، رواہ البخاري تعلیقًا (الجنائز باب 61 قبل ح 1330) [و انظر تغلیق التعلیق 482/2] ٭ محمد بن حمید: ضعیف و مغیرۃ بن مقسم مدلس و لم أجد تصریح سماعہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بن الْحسن بن عَليّ ضَرَبَتِ امْرَأَتُہُ الْقُبَّةَ عَلَی قَبْرِہِ سَنَةً ثُمَّ رَفَعَتْ فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا ہَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَہُ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا

امام بخاری ؒ نے معلق روایت بیان کی ہے کہ جب حسن بن حسن بن علی ؒ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ نے سال بھر کے لیے ان کی قبر پر خیمہ لگا لیا،پھر انہوں نے اٹھا لیا تو انہوں نے کسی پکارنے والے کو سنا: کیا انہوں نے اپنی مفقود چیز کو پا لیا؟ دوسرے نے جواب دیا،نہیں بلکہ مایوس ہو گئے تو واپس چلے گئے۔ضعیف،رواہ البخاری تعلیقاً۔