Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1750 (مشکوۃ المصابیح)
[1750] إسنادہ موضوع، رواہ ابن ماجہ (1485) ٭ نفیع بن الحارث أبو داود الأعمي کذاب و علي بن الحزور: متروک۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَأَبِي بَرْزَةَ قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَی قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَہُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَبِفِعْلِ الْجَاہِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ؟ أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاہِلِيَّةِ تَشَبَّہُونَ؟ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ)) قَالَ: فَأخذُوا أرديتہم وَلم يعودوا لذَلِك. رَوَاہُ ابْن مَاجَہ
عمران بن حصین ؓ اور ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اوپر والی چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیض پہن کر چل رہے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) فرمایا:’’کیا تم جاہلیت کا سا کام کر رہے ہو یا جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کر رہے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تمہارے لیے بددعا کروں کہ تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،انہوں نے اپنی چادریں لے لیں اور پھر دوبارہ ایسے نہیں کیا۔اسنادہ موضوع۔