Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1756 (مشکوۃ المصابیح)
[1756] إسنادہ صحیح، رواہ أحمد (25/5، 34۔ 35، 436/3) [والنسائي (23/4 ح 1871) و صححہ ابن حبان (الموارد: 725) والحاکم (384/1) ووافقہ الذہبي۔ ]
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ ﷺ وَمَعَہُ ابْنٌ لَہُ. فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: ((أَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ ﷺ أَحَبَّكَ اللہُ كَمَا أُحِبُّہُ. فَفَقَدَہُ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: ((مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ مَاتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَمَّا تحب أَلا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَہُ يَنْتَظِرُكَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ لَہُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِكُلِّكُمْ)) . رَوَاہُ أَحْمد
قرۃ مزنی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا کرتا تھا،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا:’’کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جیسے اس سے محبت کرتا ہوں ویسے اللہ آپ سے محبت کرے،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ پایا تو پوچھا:’’ابن فلاں کو کیا ہوا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ فوت ہو گیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو تم اسے وہاں اپنا منتظر پاؤ؟‘‘ کسی آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ اس شخص کے لیے خاص ہے یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’بلکہ تم سب کے لیے ہے۔‘‘ صحیح،رواہ احمد۔