Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1761 (مشکوۃ المصابیح)
[1761] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (9953) ٭ عبد اللہ بن صالح کاتب اللیث بن سعد: لم یروعنہ الحذاق ھذا الحدیث، و یزید بن میسرۃ أبو حلبس: وثقہ ابن حبان وحدہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ اللہَ تَبَارَكَ وَتَعَالَی قَالَ: يَا عِيسَی إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَہُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللہَ وَإِنْ أَصَابَہُمْ مَا يَكْرَہُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ ہَذَا لَہُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيہِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي . رَوَاہُمَا الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں،میں نے ابو درداء ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا،انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:’’عیسی ٰ! میں تیرے بعد ایک امت بھیجنے والا ہوں،جب انہیں کوئی پسندیدہ چیز ملے گی تو وہ اللہ کی حمد بیان کریں گے،اور اگر کسی ناگوار چیز سے واسطہ پڑ گیا تو وہ ثواب کی امید کے ساتھ صبر کریں گے،حالانکہ کوئی حلم و عقل نہیں ہو گی،انہوں نے عرض کیا: میرے پروردگار! یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حلم و عقل نہ ہو؟ فرمایا:’’میں انہیں اپنے حلم و علم سے عطا کروں گا۔‘‘ ضعیف۔