Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1781 (مشکوۃ المصابیح)
[1781] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1664) ٭ غیلان بن جامع: رواہ عن عثمان بن عمیر أبی الیقظان عن جعفر بن إیاس عن مجاھد عن ابن عباس بہ (البیھقي 83/4) وأبو الیقظان ضعیف مدلس فالعلۃ مدمرۃ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّةَ) كَبُرَ ذَلِكَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ عُمَرُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ فَانْطَلَقَ. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ قد كبر علی أَصْحَابك ہَذِہ الْآيَة. فَقَالَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ اللہَ لم يفْرض الزَّكَاة إِلَّا ليطيب بہَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ وَذكر كلمة لتَكون لمن بعدكم)) قَالَ فَكَبَّرَ عُمَرُ. ثُمَّ قَالَ لَہُ: ((أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْہَا سَرَّتْہُ وَإِذَا أَمَرَہَا أَطَاعَتْہُ وَإِذَا غَابَ عَنْہَا حفظتہ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں،جب یہ آیت:’’جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں،،،،،،‘‘ نازل ہوئی تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری،تو عمر ؓ نے فرمایا: میں تمہاری اس مشکل کو حل کرتا ہوں،وہ گئے اور عرض کیا،اللہ کے نبی! یہ آیت آپ کے صحابہ پر بہت گراں گزری ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے تاکہ وہ تمہارے باقی اموال کو پاک کر دے،اور اس نے وراثت کو اس لیے فرض کیا۔‘‘ راوی کہتے ہیں: آپ نے ایک کلمہ ذکر کیا:’’تاکہ وہ تمہارے بعد والوں کے لیے ہو جائے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،عمر ؓ نے (خوشی کے ساتھ) نعرہ تکبیر بلند کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا:’’کیا میں تمہیں آدمی کے بہترین خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ صالحہ بیوی ہے،جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے،جب وہ اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ اس کے پاس نہ ہو تو وہ اس (کے تمام حقوق) کی حفاظت کرے۔‘‘ ضعیف۔