Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1790 (مشکوۃ المصابیح)

[1790] متفق علیہ، رواہ البخاري (1399۔ 1400) و مسلم (20/32)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ﷺ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ عَصَمَ مِنِّي مَالَہُ وَنَفْسَہُ إِلَّا بِحَقِّہِ وَحِسَابُہُ علی اللہ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللہِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللہِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَہَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ لَقَاتَلْتُہُمْ عَلَی مَنْعِہَا. قَالَ عُمَرُ: فَوَاللہِ مَا ہُوَ إِلَّا أَن رَأَيْت أَن قد شرح اللہ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّہُ الْحَقُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی اور ان کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنے تو کچھ عرب مرتد ہو گئے،عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے قتال کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما چکے ہیں:’’مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،جس نے کہہ دیا،اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو اس نے حق اسلام کے علاوہ اپنے مال و جان کو مجھ سے محفوظ کر لیا،جبکہ اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘ ابوبکر ؓ نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! جو شخص نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا تو میں اس سے ضرور قتال کروں گا،کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے،اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بھیڑ کا بچہ،جو وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیا کرتے تھے،مجھے دینے سے انکار کیا تو میں اس کے انکار پر بھی ان سے ضرور قتال کروں گا،عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تو بس یہی سمجھ آئی کہ اللہ نے ابوبکر ؓ کے سینے کو قتال کے لیے کھول دیا،میں نے پہچان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔متفق علیہ۔