Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1809 (مشکوۃ المصابیح)

[1809] حسن، رواہ الترمذي (637) ٭ ولہ طریق آخر عند أبي داود (1563) وغیرہ وسندہ حسن۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَفِي أَيْدِيہِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ لَہُمَا: ((تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَہُ؟)) قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللہُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟)) قَالَتَا: لَا. قَالَ: ((فَأَدِّيَا زَكَاتَہُ)) رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: ہَذَا حَدِيث قد رَوَاہُ الْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ ہَذَا وَالْمُثَنَّی بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَہِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي ہَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ شَيْء

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا:’’کیا تم اس (سونے) کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،جی نہیں،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا:’ـ’ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنا دے؟ انہوں نے عرض کیا،نہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’تو پھر اس سونے کی زکوۃ ادا کرو۔‘‘ ترمذی،اور انہوں نے فرمایا: مثنی بن صباح نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے،جبکہ مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف ہیں،اس بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔حسن،رواہ الترمذی۔