Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1810 (مشکوۃ المصابیح)
[1810] إسنادہ ضعیف، رواہ مالک (لم أجدہ) و أبو داود (1564) ٭ عطاء بن أبي رباح: لم یسمع من أم سلمۃ کما قال أحمد وغیرہ۔ ٭٭ روی مالک (256/1 ح 599) بسند صحیح عن ابن عمر قال فی الکنز: ’’ھو المال الذي لا تؤدی منہ الزکاۃ‘‘۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَہَبٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ أَكَنْزٌ ہُوَ؟ فَقَالَ: ((مَا بلغ أَن يُؤدی زَكَاتُہُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ)) . رَوَاہُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں،میں سونے کے پازیب پہنا کرتی تھی،میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! کیا یہ بھی خزانہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو مال نصاب زکوۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ خزانہ نہیں۔‘‘ ضعیف۔