Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1825 (مشکوۃ المصابیح)
[1825] متفق علیہ، رواہ البخاري (5279) و مسلم (1504/14)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَی السُّنَنِ أَنَّہَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِہَا وَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ)) . وَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْہِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ: ((أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيہَا لَحْمٌ؟)) قَالُوا: بَلَی وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِہِ عَلَی بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ: ((ہُوَ عَلَيْہَا صَدَقَةٌ وَلنَا ہَدِيَّة))
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،بریرہ ؓ کی وجہ سے تین احکام شریعت کا پتہ چلا،انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ولاء (حق وراثت) آزاد کرنے والے کو ملے گا۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو ہنڈیا میں گوشت ابل رہا تھا،پس روٹی اور گھر کا سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا؟ اہل خانہ نے عرض کیا،کیوں نہیں،ضرور دیکھا ہے،لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا ہے جبکہ آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ اس کے لیے صدقہ ہے جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘ متفق علیہ۔