Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1847 (مشکوۃ المصابیح)
[1847] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1626) و الترمذي (650 وقال: حسن۔) والنسائي (97/5 ح 2593) و ابن ماجہ (1820) والدارمي (386/1 ح 1647) ٭ حکیم بن جبیر: ضعیف، و للثوري تدلیس عجیب لأنہ حدث بہ عن زبید عن محمد بن عبد الرحمٰن بن یزید: ولم یجاوزہ، أي مقطوعًا أو مرسلاً!۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: ((من سَأَلَ النَّاسَ وَلَہُ مَا يُغْنِيہِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُہُ فِي وَجْہِہِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ)) . قِيلَ يَا رَسُولَ اللہِ وَمَا يُغْنِيہِ؟ قَالَ: ((خَمْسُونَ دِرْہَمًا أَوْ قِيمَتُہَا مِنَ الذَّہَبِ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ روز قیامت آئے گا تو وہ سوال اس کے چہرے پر خراش کی طرح ہو گا۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! وہ کتنی مقدار ہے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’پچاس درہم یا اس کے مساوی سونا۔‘‘ ضعیف۔