Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1848 (مشکوۃ المصابیح)
[1848] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1629)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ سَہْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَہُ مَا يُغْنِيہِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ)) . قَالَ النُّفَيْلِيُّ. وَہُوَ أَحَدُ رُوَاتِہِ فِي مَوْضِعٍ آخر: وَمَا الْغنی الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَہُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ: ((قَدْرُ مَا يُغَدِّيہِ وَيُعَشِّيہِ)) . وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ((أَنْ يَكُونَ لَہُ شِبَعُ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
سہیل بن خظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہو تو پھر وہ آگ میں اضافہ کر رہا ہے۔‘‘ اور نفیلی جو اس روایت کے راوی ہیں،انہوں نے دوسرے مقام پر فرمایا: وہ مال کی کتنی مقدار ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا مناسب نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جو صبح و شام کھانے کی مقدار۔‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا:’’جس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی صبح شام کی شکم سیری کے لیے کافی ہو۔‘‘ صحیح،رواہ ابوداؤد۔