Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1864 (مشکوۃ المصابیح)

[1864] متفق علیہ، رواہ البخاري (1443) و مسلم (1021/75)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْہِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيہِمَا إِلَی ثُدُيِّہِمَا وَتَرَاقِيہِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدقَة انبسطت عَنہُ الْبَخِيلُ كُلَّمَا ہَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلقَة بمكانہا))

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی مثال ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہیں،اور ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی تک بندھے ہوئے ہیں،جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے،اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر آ جاتی ہے۔‘‘ متفق علیہ۔