Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1867 (مشکوۃ المصابیح)

[1867] متفق علیہ، رواہ البخاري (1419) و مسلم (92/ 1032)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَی وَلَا تُمْہِلَ حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نے عرض کیا،اللہ کے رسول! اجر و ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’وہ صدقہ جو تو تندرستی میں کرے جبکہ مال کی حرص تم پر غالب ہو،اور تجھے فقر کا اندیشہ بھی ہو اور تونگری کا طمع بھی،اور (صدقہ کرنے میں) دیر نہ کر حتیٰ کہ جب سانس حلق تک پہنچ جائے اور تو کہے: اتنا مال فلاں کے لیے اور اتنا فلاں کے لیے جبکہ وہ تو (ازخود) فلاں کا ہو چکا۔‘‘ متفق علیہ۔