Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1880 (مشکوۃ المصابیح)
[1880] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي في دلائل النبوۃ (300/6) ٭ مولی لعثمان: مجھول، والجریري اختلط و علي بن عاصم: ضعیف، و من دونہ نظر و لہ شاھد ضعیف جدًا عند البیھقي فی الدلائل (297/6) فیہ خارجۃ بن مصعب: متروک و حدیث (1860) یغني عنہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن مولی لعُثْمَان رَضِي اللہ عَنہُ قَالَ: أُہْدِيَ لِأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعْجِبُہُ اللَّحْمُ فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ: ضَعِيہِ فِي الْبَيْتِ لَعَلَّ النَّبِيَّ ﷺ يَأْكُلُہُ فَوَضَعَتْہُ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ. وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَی الْبَابِ فَقَالَ: تَصَدَّقُوا بَارَكَ اللہُ فِيكُمْ. فَقَالُوا: بَارَكَ اللہُ فِيكَ. فَذَہَبَ السَّائِلُ فَدَخَلَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: ((يَا أَمَّ سَلَمَةَ ہَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمُہُ؟)) . فَقَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ لِلْخَادِمِ: اذْہَبِي فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ بِذَلِكِ اللَّحْمِ. فَذَہَبَتْ فَلَمْ تَجِدْ فِي الْكَوَّةِ إِلَّا قِطْعَةَ مَرْوَةٍ فَقَالَ النَّبِي صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم: ((فَإِن ذَلِك اللَّحْمَ عَادَ مَرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوہُ السَّائِلَ)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة
عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں،ام سلمہ ؓ کو گوشت کا ایک ٹکڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت پسند تھا،تو انہوں نے خادمہ سے فرمایا: اسے گھر میں رکھو شاید کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے تناول فرمائیں،اس نے اسے گھر کے طاق میں رکھا،اور اتنے میں سائل دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے،صدقہ کرو۔اہل خانہ نے بھی کہا: اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے (یعنی تمہارا بھلا ہو)،وہ سائل چلا گیا،تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے،آپ نے فرمایا:’’ام سلمہ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے کہ میں اسے کھا لوں؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،جی ہاں،اور خادمہ سے فرمایا: جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وہ گوشت لاؤ،وہ گئی تو وہاں طاق میں (گوشت کے بجائے) صرف ایک سفید پتھر پڑا ہوا تھا،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ گوشت،سفید پتھر بن گیا،تم نے اسے سائل کو کیوں نہ دیا؟‘‘ ضعیف۔