Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1882 (مشکوۃ المصابیح)

[1882] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (63/1 ح 453) ٭ فیہ ابن لھیعۃ ضعیف من جھۃ اختلاطہ و صرح بالسماع و لأصل الحدیث شواھد عند أحمد (148/5، 160، 176) و ابن ماجہ (4132) و البخاري (7228، 2388) و مسلم (94) و غیرہم فالمرفوع حسن بالشواھد بغیر ھذا السیاق۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلَی عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَہُ وَبِيَدِہِ عَصَاہُ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَی فِيہِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيہِ حَقَّ اللہِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْہِ. فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاہُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي ہَذَا الْجَبَلَ ذَہَبًا أُنْفِقُہُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْہُ سِتَّ أَوَاقِيَّ)) . أَنْشُدُكَ بِاللہِ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَہُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: نعم. رَوَاہُ أَحْمد

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان ؓ سے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے انہیں اجازت دے دی،اور ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی،تو عثمان ؓ نے فرمایا: کعب! عبدالرحمٰن ؓ وفات پا گئے اور انہوں نے مال چھوڑا ہے،اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر تو وہ اس بارے میں اللہ کا حق ادا کیا کرتے تھے تو پھر کوئی حرج نہیں،ابوذر ؓ نے لاٹھی اٹھائی اور کعب کو دے ماری،اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو اور میں اسے خرچ کر دوں اور وہ مجھ سے قبول بھی ہو جائے اور پھر میں اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ جاؤں۔‘‘ عثمان! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں،کیا آپ نے اسے سنا ہے؟ تین مرتبہ کہا،انہوں نے فرمایا: ہاں۔ضعیف۔